اس امیرپورخاص (رحمت اللہ شر) میرپورخاص میں ایک بار پھر خود کشی مین رکارڈ اضافہ محمد میڈیکل کالج کی طالبہ فہمیدہ لغاری کے انتقال کی خبر نہایت افسوسناک اور دل دُکھانے والی ہے۔ المناک واقعے پر میں مرحومہ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔اس موقع پر میری رائے میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جذباتی ماحول میں کسی بھی فرد، استاد یا ادارے پر بغیر مکمل حقائق اور شواہد کے الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔ اگر اس واقعے کے حوالے سے کسی قسم کے شبہات یا سوالات موجود ہیں تو ان کا جواب صرف شفاف، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کے ذریعے ہی سامنے آنا چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر سید رضی محمد کا یہ مؤقف ذمہ دارانہ اور متوازن ہے کہ اگر کسی بھی فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ یہی ایک مہذب، قانونی اور منصفانہ راستہ ہے۔ کسی سانحے کو بنیاد بنا کر ذاتی پسند و ناپسند یا پرانی رنجشوں کے تحت تعلیمی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا مناسب نہیں۔ محمد میڈیکل کالج ایک معروف تعلیمی ادارہ ہے جہاں میرپورخاص سمیت مختلف علاقوں کی طالبات اور طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے اداروں کے بارے میں رائے ہمیشہ تحقیق، ذمہ داری اور دیانت کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے، نہ کہ افواہوں یا غیر مصدقہ باتوں پر۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نازک وقت میں ہمیں جذبات سے زیادہ انصاف، اور شور سے زیادہ سچائی کو ترجیح دینی چاہیے۔ ادارے، اساتذہ اور انتظامیہ کے بارے میں کوئی بھی حتمی رائے صرف مستند تحقیقات کے بعد ہی قائم ہونی چاہیے۔ میری ہمدردیاں مرحومہ کے خاندان کے ساتھ ہیں، اور میری رائے یہ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر سید رضی محمد اور محمد میڈیکل کالج کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا یا قبل از وقت الزام تراشی کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
اللہ تعالٰی مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں سچ، انصاف اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی توفیق دے۔