مکتہ المکرمہ میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان جمع ہوئے جہاں انہوں نے خطبہ حج سُنا۔ تفصیلات کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں عازمین حج عرفات کے میدان میں جمع ہوئے جہاں شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبہ حج دیا۔اللہ کی حمدوثنا اور رسول صلہ اللہ علیہ وسلم پر درودوشریف کے بعد ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے حج کو فریضہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ شیخ کا مزید کہنا تھا جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کیلئے اللہ نے دُہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے ابراہیمؑ کو کہا حج کیلئے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ دور دراز سے لوگ حج کیلئے آئے ہیں تاکہ دنیا و اخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا اُنہیں پورا کیا جائے۔ اور جو بھی شعائراللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کررہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔انہوں نے کہا عازمین حج یہاں عرفات میں قیام کریں گے پھر اگلے دن مزدلفہ جائیں گے جس کے بعد عازمین حج منی میں تشریف لے کر جائیں گے۔ اور منیٰ میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ آپ یہاں منی میں رہتے ہوئے 11، 12 کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طواف کریں گے۔انہوں نے آخر میں دعا کی کہ یا اللہ تمام عازمین کو بحفاظت اور سلامتی کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو لوٹا اور ان کے دلوں میں حق کو جمع کردے اور ان کے حج کے تمام مناسک کو قبول فرما۔