ایران کی خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مخصوص حصے کو باضابطہ طور پر کنٹرول زون میں شامل کر لیا گیا ہے۔
https://twitter.com/PGSA_IRAN?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2057188154092761311%7Ctwgr%5E25f06f9267f135a37a421f524d602dbd897315c6%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Flive-blog%2F9%2F
بیان کے مطابق ام القوین سے قشم جزیرے تک سمندری حدود کی نئی لائن متعین کی گئی ہے جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والی تمام بحری ٹریفک کو متعلقہ حکام سے اجازت اور رابطہ کرنا ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت اس آبی راستے کی نگرانی اور کنٹرول کا اعلان کیا جا چکا ہے جس میں بحری ٹریفک کے ساتھ ساتھ زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کی نگرانی اور فیس کے نظام کی بات بھی شامل تھی۔ ماہرین کے مطابق اس راستے سے دنیا کے بڑے مالیاتی اور ڈیٹا نیٹ ورکس کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی نئی پابندی یا کنٹرول کے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔