میڈیا سے گفتگو کے دوران پیٹر میگیار سے سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو ہنگری کا دورہ کریں تو کیا انہیں گرفتار کیا جائے گا؟ اس پر وزیراعظم نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور ان کی حکومت بین الاقوامی عدالت کے احکامات پر عمل کرے گی۔
پیٹر میگیار نے مزید کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی فوجداری عدالت سے علیحدگی کے عمل کو بھی روک دے گی، جس کا آغاز سابق وزیراعظم وکٹر اوربان نے کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ اقدام مبینہ طور پر بعض عالمی رہنماؤں کو ممکنہ قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ ہنگری عالمی قوانین اور انصاف کے اصولوں کی پاسداری کرے گا اور کسی بھی ایسے فرد کو تحفظ نہیں دیا جائے گا جس کے خلاف جنگی جرائم یا دیگر سنگین الزامات کے تحت بین الاقوامی وارنٹ موجود ہوں۔
ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2046275829420667380%7Ctwgr%5Ed7416967354fa83573b0b40a8b86cea79b271519%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2809476%2Fhungary-pm-says-leaders-with-icc-warrants-will-be-arrested-2809476
https://x.com/QudsNen
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بحث میں تیزی آ رہی ہے، اور مختلف ممالک کی جانب سے بین الاقوامی عدالتوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔