Latest Posts
رسول اللہ ﷺ کا فرمانمنیر احمد ولد سردار محمدملک بھر میں واٹس ایپ سروسز متاثر، صارفین پریشانجرمن سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، قونصل خانے پر حملے کی مذمتای پیپرزرسول اللہ ﷺ کا فرمانگارلک اور چیز بریڈانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم سے پاکستان کا تذکرہ غائب کیوں ہوا؟صنم جاوید کیس میں اپیل سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کی وضاحتصبا فیصل اپنی بیٹی کے ہمراہ عُمرے پر روانہمخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست تعطیلات کے بعد سننے کا فیصلہایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت سے ایک یا دو ہفتے دور ہے، امریکابنگلادیش میں احتجاجی طلبہ کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکمکراچی: ہوٹل کے ملازم پر ناشتے کے پیسے مانگنے پر مقدمہ درج کرنے والے پولیس اہلکار معطلنئے انتخابات کیلیے پی ٹی آئی پختونخوا اسمبلی کی تحلیل اور قومی نشستیں چھوڑنے پر تیار ہے، فضل الرحمانحکومت میں بیٹھے آئی پی پیز مالکان عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمٰنکراچی میں 6 سالہ بچی سے پڑوسی کی زیادتی، ملزم گرفتارکراچی ڈویژن میں دو لاکھ گھروں میں کھانا پکانے کیلئے لکڑی کا استعمال ہوتا ہے، ادارہ شماریاتوفاق نے بنوں واقعے کی تحقیقات کیلیے پختونخوا حکومت کے کمیشن کو مسترد کردیاپیام شوق و سلام عقیدت

ارشد شریف قتل کیس؛ کینیا کی عدالت کا پولیس اور سیکیورٹی فورسز کیخلاف تحقیقات کا حکم

نیروبی: کینیا میں جیادو کی ہائی کورٹ نے ارشد شریف کی بیوہ کی درخواست پر  قتل کیس کی تحقیقات کا فیصلہ سنادیا جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کینیا کی عدالت نے پولیس کے اس بیان کو مسترد کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف کی گاڑی پر غلط شناخت کی بنیاد پر فائرنگ کی تھی۔ ہم اس گاڑی کو اغوا کاروں کی گاڑی سمجھ رہے تھے۔ کینیا کی عدالت نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کا نتیجہ قرار دینے کا پولیس کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔ کینیا کی عدالت نے اپنے فیصلے میں ارشد شریف کے قتل کی سازش کا باریکی اور گہرائی کے ساتھ تفتیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف تحقیقات کرکے سخت سے سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ کینیا کی عدالت کے جج جسٹس سٹیلا نے کہا کہ آئین اور قانون کے نزدیک ہر شخص برابر ہے۔ عدالت نے ارشد شریف کے لواحقین کو ایک کروڑ شیلنگ کی ادائیگی کا حکم بھی دیا۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2022  میں نیروبی کے ایک چیک پوائنٹ نزدیک سے گزرنے والی ایک گاڑی پر پولیس کی فائرنگ سے ارشد شریف جاں بحق ہوگئے تھے اور حیران کن طور پر ان کے ساتھ بیٹھے ڈرائیور کو معمولی چوٹ بھی نہ آئی تھی۔ نیروبی پولیس چیف نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک بچے کے اغوا کاروں کی تلاش میں پولیس نے اس گاڑی کو اشارے کے باوجود نہ رکنے پر نشانہ بنایا جس میں ارشد شریف موجود تھے۔ جس پر ارشد شریف کی بیوہ اور صحافی جویریہ صدیق نے ایلیٹ پولیس یونٹ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف کا قتل غلط شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے کیا گیا تھا۔ کیس کا پس منظر یہ کیس ارشد شریف کی دوسری اہلیہ جویریہ صدیق نے اپنے وکیل اویچل کے توسط سے جی ایس یو جرنل سروس یونٹ اور قتل کے نامزد 5 پولیس اہلکاروں کے خلاف کینیا کی ایک عدالت میں گزشتہ برس 19 اکتوبر کو دائر کیا تھا۔ علاوہ ازیں درخواست میں کینیا کے اٹارنی جنرل، ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن، آئی جی نیشنل پولیس سروس، انڈپینڈنٹ پولیس، نیشنل پولیس سروس کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا۔ دسمبر میں ہونے والی ابتدائی سماعت میں عدالت نے پولیس اور دیگر ملزمان سمیت تمام فریقین کو تفصیلی جواب کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔ رواں برس 30 اپریل کو اس کیس کی دوسری سماعت میں وکلا نے اپنے دلائل مکمل کرلیے تھے جب کہ 8 مئی کو ہونے والی تیسری سماعت میں کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا۔ آج دو ماہ بعد کینیا کی عدالت نے محفوظ فیصلہ سنادیا۔ درخواست گزار جویریہ صدیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے ہمراہ کینیا کی دو صحافتی تنظیموں یونین آف جرنلسٹ اور کارسپونڈینس ایسوسی ایشن سمیت 4 عالمی اداروں آئی سی ایف جے، آئی ڈبلیو ایم ایف، میڈیا ڈیفینس اور ویمن جرنلزم نے بھی معاونت کی۔ کینیا میں ہمیں انصاف مل گیا؛ اہلیہ جویریہ صدیق  انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق مقتول ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ ارشد نے اپنے یوٹیوب چینل پر بتایا کہ ہم کیس جیت گئے۔ کینیا کی عدالت نے تسلیم کیا کہ کینیا پولیس کی جانب سے تسلی بخش جوابات جمع نہیں کرائے گئے۔ ارشد شریف کی اہلیہ نے کہا کہ کینیا میں تو انصاف مل گیا اور اب پاکستان میں انصاف ملنا باقی ہے۔ اہلیہ جویریہ صدیق نے مزید کہا کہ میرے شوہر کے اصل قاتل وہ ہیں جنہوں نے ارشد شریف کو پاکستان میں 16 مقدموں میں نامزد کیا تھا اور جس کی وجہ سے میرے شوہر کو ملک سے مجبوراً باہر جانا پڑا تھا۔ اہلیہ جویریہ صدیق کے وکلا نے کینیا کی عدالت میں کیا مؤقف اختیار کیا تھا درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ گاڑی پر گولی چلانا پولیس کا مجرمانہ فعل تھا کیوں کہ جن اغوا کاروں کی گاڑی کی پولیس کی تلاش تھی۔ جس کا ماڈل اور نمبر پلیٹ بھی مختلف تھی اس کے بجائے ارشد شریف کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کی جو وجوہات پولیس نے بتائی ہیں اس میں جھول اور ابہام ہے۔ اس لیے قتل کی باریکی کے ساتھ تفتیش کی جائے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ارشد شریف کو کیوں گولی ماری گئی حالانکہ گولی ٹائر پر بھی ماری جا سکتی تھی۔ وکلا نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ آخر کیوں گولیاں صرف ارشد شریف کو لگیں اور ڈرائیور کا بال بیکا نہیں ہوا اور پھر پولیس نے گاڑی کو لاش کے ہمراہ کیوں جانے دیا۔ ڈرائیور کو گاڑی روکنے پر مجبور کیوں نہیں کیا گیا۔ارشد شریف کا قتل کب ہوا تھا  اینکر و صحافی ارشد شریف کو 23 اکتوبر 2022 کو کینیا میں پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے۔ کینیا پولیس نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ غلط شناخت کے باعث ارشد شریف کی گاڑی پولیس کی گولیوں کی زد میں آئی۔ اُس وقت پولیس کے اعلٰی حکام نے کہا تھا کہ ارشد شریف قتل کیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا لیکن بعد میں ان اہلکاروں کو نہ صرف رہا بلکہ ان کی نوکریاں بھی بحال کردی گئی تھیں۔ ارشد شریف کینیا کیوں گئے تھے ؟ ارشد شریف اگست 2022 میں اپنے خلاف کئی مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان سے دبئی چلے گئے تھے اور کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد پراسرار طور پر اور خاموشی سے کینیا چلے گئے تھے۔ وہاں ایک دوست کے ساتھ مقیم تھے۔کینیا میں ان کی موجودگی اور نقل و حرکت سے زیادہ لوگ واقف نہیں تھے۔ اس حوالے سے ان کے اہل خانہ کے پاس بھی ٹھوس معلومات نہیں تھیں۔تحریک انصاف اور عمران خان کے زبردست حامیارشد شریف کو تحریک انصاف کا زبردست حامی تصور کیا جاتا ہے اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم کیے جانے کے بعد سے وہ پی ٹی آئی اے کے ایک زبردست حامی کے طور پر سامنے آئے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب یہی ارشد شریف تحریک انصاف اور عمران خان پر تنقید کے باعث سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا نشانہ بھی بنتے رہے ہیں لیکن بعد میں ان کے پی ٹی آئی سے تعلقات کافی خوشگوار ہوگئے تھے۔شہید فوجی کے بھائی ارشد شریف کے بھائی میجر اشرف شہید بنوں میں تعینات تھے جب انھیں اپنے والد کے انتقال کرجانے کی اطلاع ملی تو گھر کے لیے روانہ ہوئے تاہم کرک کے مقام پر تاک میں بیٹھے دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر حملہ کردیا۔ ارشد شریف کے بھائی میجر اشرف شریف نے وطن عزیز پر اپنی جان قربان کردی۔ یہ اطلاع جب گھر پہنچی تو والد کی نماز جنازہ روک دی گئی اور پھر بعد میں باپ اور بیٹے کی ایک ساتھ تدفین کی گئیحل طلب سوالات ارشد شریف کیس میں اب تک کئی سوالات حل طلب ہیں۔ انھوں نے کینیا جیسے ملک کا انتخاب کیوں کیا جہاں بے امنی اور دہشت گردی بھی ہے اور وہ صحافیوں کے لیے بھی بہت زیادہ محفوظ نہیں۔کہا جاتا ہے کہ ارشد شریف کے متحدہ عرب امارات چھوڑنے کی وجہ ان کے ویزے میں توسیع نہ کرنا اور پاکستان واپس بھیجنے کی باتیں تھیں تاہم اس حوالے سے ٹھوس حقائق اب بھی پوشیدہ ہیں۔یہ سوال بھی اپنی جگہ کھڑا ہے کہ کینیا میں وہ کس کے توسط سے گئے۔ اس حوالے سے چند لوگوں کے نام بھی سامنے آئے لیکن تاحال تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

About aljazeera news hd

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow