Latest Posts
رسول اللہ ﷺ کا فرمانمنیر احمد ولد سردار محمدملک بھر میں واٹس ایپ سروسز متاثر، صارفین پریشانجرمن سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، قونصل خانے پر حملے کی مذمتای پیپرزرسول اللہ ﷺ کا فرمانگارلک اور چیز بریڈانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم سے پاکستان کا تذکرہ غائب کیوں ہوا؟صنم جاوید کیس میں اپیل سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کی وضاحتصبا فیصل اپنی بیٹی کے ہمراہ عُمرے پر روانہمخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست تعطیلات کے بعد سننے کا فیصلہایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت سے ایک یا دو ہفتے دور ہے، امریکابنگلادیش میں احتجاجی طلبہ کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکمکراچی: ہوٹل کے ملازم پر ناشتے کے پیسے مانگنے پر مقدمہ درج کرنے والے پولیس اہلکار معطلنئے انتخابات کیلیے پی ٹی آئی پختونخوا اسمبلی کی تحلیل اور قومی نشستیں چھوڑنے پر تیار ہے، فضل الرحمانحکومت میں بیٹھے آئی پی پیز مالکان عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمٰنکراچی میں 6 سالہ بچی سے پڑوسی کی زیادتی، ملزم گرفتارکراچی ڈویژن میں دو لاکھ گھروں میں کھانا پکانے کیلئے لکڑی کا استعمال ہوتا ہے، ادارہ شماریاتوفاق نے بنوں واقعے کی تحقیقات کیلیے پختونخوا حکومت کے کمیشن کو مسترد کردیاپیام شوق و سلام عقیدت

بھارت میں فیس بک نے مسلمان مخالف مواد دکھانے کی منظوری دے دی

نئی دہلی: بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کو  سوشل میڈیا پر ہندوتوا کو پھیلانے کے لیے کھلی چھٹی مل گئی۔ انتخابات جیتنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کی مسلمان دشمن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) نے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ فیس بک نے بھارت میں مسلمان مخالف مواد دکھانے کی منظوری دے دی۔ فیس بک پر آنے والے اشتہار میں مسلمانوں کو کیڑوں اور دہشتگردوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ بی جے پی کے رہنما مسلمان مخالف مواد پھیلانے اور مذہبی تشدد کو بڑھانے کے لیے بے دریغ سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں تاہم ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کیا جارہی۔ مودی سرکار  نے ایک  اشتہار میں ایک اپوزیشن لیڈر کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان کے جھنڈے کی تصویر کے ساتھ بھارت سے ہندوؤں کو مٹانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی اور مودی بھارت میں ہندو قوم پرستی کو پروان چڑھانے کے لئے تیسری بار کے لیے اقتدار میں آنے کے لئے بے تاب ہیں۔ مودی کی جانب سے میٹا کو انگریزی، ہندی، بنگالی، گجراتی میں 22 اشتہارات پیش کیے گئے جن میں سے 14 کو منظور کیا گیا۔ میٹا کی یہ واضح پالیسی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہیرا پھیری کرنے والے مواد کو پھیلنے سے روکے گی تاہم مسلمانوں کے خلاف مواد کو نہیں ہٹایا گیا جبکہ مودی مخالف 5 تقاریر اور اشتہارات کو ہٹا دیا گیا

About ManiStonics

Human

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow