Latest Posts
رسول اللہ ﷺ کا فرمانمنیر احمد ولد سردار محمدملک بھر میں واٹس ایپ سروسز متاثر، صارفین پریشانجرمن سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، قونصل خانے پر حملے کی مذمتای پیپرزرسول اللہ ﷺ کا فرمانگارلک اور چیز بریڈانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم سے پاکستان کا تذکرہ غائب کیوں ہوا؟صنم جاوید کیس میں اپیل سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کی وضاحتصبا فیصل اپنی بیٹی کے ہمراہ عُمرے پر روانہمخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست تعطیلات کے بعد سننے کا فیصلہایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت سے ایک یا دو ہفتے دور ہے، امریکابنگلادیش میں احتجاجی طلبہ کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکمکراچی: ہوٹل کے ملازم پر ناشتے کے پیسے مانگنے پر مقدمہ درج کرنے والے پولیس اہلکار معطلنئے انتخابات کیلیے پی ٹی آئی پختونخوا اسمبلی کی تحلیل اور قومی نشستیں چھوڑنے پر تیار ہے، فضل الرحمانحکومت میں بیٹھے آئی پی پیز مالکان عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمٰنکراچی میں 6 سالہ بچی سے پڑوسی کی زیادتی، ملزم گرفتارکراچی ڈویژن میں دو لاکھ گھروں میں کھانا پکانے کیلئے لکڑی کا استعمال ہوتا ہے، ادارہ شماریاتوفاق نے بنوں واقعے کی تحقیقات کیلیے پختونخوا حکومت کے کمیشن کو مسترد کردیاپیام شوق و سلام عقیدت

اینٹوں اور سمنٹ کا ماحول دوست متبادل

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیری ڈوٹ نامی قیمتی پتھر میں پایا جانے والا ایک معدن تعمیراتی شعبے کے سبب ہونے والے کاربن اخراج کو بڑی حد تک کم کرسکتا ہے۔تعمیراتی شعبہ عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 37 فیصد کا حصے دار ہے۔ مطالعے میں محققین نے بتایا کہ پیری ڈوٹ کے چمکیلے سبز رنگ کا سبب بننے والے معدن اولیوین کا استعمال مضبوط، پائیدار اور کم کاربن خارج کرنے والے سمنٹ کو بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ اس معدن سے بنائے جانے والی اشیاء بھٹے میں بنی اینٹوں اور جپسم بورڈ (عام طور پر استعمال ہونے والی دو اشیاء جو کاربن سے بھرپور ہوتی ہیں ) کی جگہ لے سکتی ہیں۔سمنٹ بنانے کے لیے اجزاء کو پیسنے اور پھر ملانے کے لیے صنعتوں کو حاصل ہونے والی توانائی فاسل ایندھن سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس ہی طرح اینٹوں کو مضبوط اور پایئدار بنانے کے لیے 1000 ڈگری سے لے کر 1200 ڈگری سیلسیئس تک بھٹی میں پکایا جاتا ہے اور اس کے لیے بھی سمنٹ بنانے کی طرح فاسل ایندھن سے توانائی حاصل کی جاتی ہے جو عالمی سطح پر کاربن اخراج کا سبب بنتی ہے۔سمنٹ اور اینٹیں بالترتیب آٹھ اور 2.7 فیصد کاربن اخراج کا سبب بنتی ہیں اور ان اشیاء کو اولیوین سے بنے متبادل سے بدل کر کاربن کے عالمی اخراج میں ممکنہ طور پر تقریباً 11 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہماری زمین اولیوین سے بھری پڑی ہے۔ یہ اگنیئس چٹانیں زمین کی اوپری مینٹل (زمین کے مرکز اور خول کے درمیان کی تہہ) بناتی ہیں اور سمندروں کی تہیں اس سے بنی ہوئی ہے۔

About ManiStonics

Human

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow