Latest Posts
سی پی او گوجرانوالہ محمد ایاز سلیم کا فوری ایکشنصوبہ، خودمختاری یا الحاقمحمد ارشد شاہد ولد نزر محمدملائیشیاء میں عاشقان رسول کی دینی تحریک دعوت اسلامی کا کوالا لمپور میں ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ہواملائیشیا سے پی ٹی آئی کے سماجی کارکن نے سپریم کورٹ کا فیملہ تاریخی کہا ہے آفتاب احمد محراب پوریمحمد معروف ولد محمد یوسفرسول اللہ ﷺ کا فرمانبلوچستان حکومت کا 7، 9 اور 10 محرم کو موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہناسا کی جانب سے لی گئی خلا میں چاند نکلنے کی خوبصورت تصویرکڑہی پکوڑہکرکٹ کی بہتری کے لیے منصفانہ فیصلوں کی ضرورتمنی لانڈرنگ کیس میں مونس الہٰی اشتہاری قرار، 7 ملزمان کی جائیدادیںڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی پر فائرنگ، سابق صدر زخمی، مبینہ حملہ آور ہلاکٹی وی اینکر عائشہ جہانزیب تشدد کیس، ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہخیبرپختونخوا حکومت کا نیب کیخلاف کارروائی کا فیصلہای پیپرزرَسُولُ اللہ ﷺیوٹیوب کا تخلیق کاروں کو کاپی رائٹ اسٹرائیک سے بچانے کا اقداماذان جو 22 مؤذنوں نے جان دیکر مکمل کی؛ مقبوضہ کشمیر میں یوم شہداء پر ہڑتالنائجیریا میں اسکول کی عمارت گر گئی، 16 طلبا سمیت 22 افراد ہلاک

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان : پاکستان مقروض کیوں؟ اب وقت فکرِ عمل ھے۔۔۔۔ !!

کالمکار: جاوید صدیقی

ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ھیں گویا اس قدر بیوقوف، جاہل، لا شعور اور علم و عمل سے نابلد کہ ھم من حیث القوم انتھک محنت و مشقت اور بے پناہ ٹیکس کی ادائیگی کے باوجود جینے اور زندہ رہنے والی ضروریات و اشیاء کی طلبی سے محروم ھوتے جارھے ھیں لیکن پھر بھی چپ اور خاموشی ھماری بےحسی اور ظلم سہنے والے گدھے کی مانند ھوچکے ھیں کہ کوئی چاہے ہمیں استعمال کرے اور ھم پر مہنگائی کا بوجھ لاد لے ھم اُف تک نہیں کرتے کیونکہ ھمہیں مستوی بتوں کی اطاعت میں ہمارے ذہنوں کو واش کر ڈالا ھے یہ الگ بات ھے کہ ھم مسلمان ھونے کے باوجود لسانی طور پر، مذہبی طور پر، اور سیکولر طور پر آقاؤں کو اپنا معبود بنائے رکھا ھوا ھے اوپر سے ھم انتہائی جذباتی بھی ہیں اور سوچتے بھی نہیں۔ ھماری انہیں عادات کی بدولت خود کو نقصان پہنچانے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتے۔ اپنے انہی فرعونی خداؤں کی اطاعت میں قومی و سرکاری املاک کو جلانا، تباہ و برباد، مخلص سچے اور محب وطنوں کو انتہائی ذہنی اذیت پہنچانا اب ھمارا مرغوب مشغلہ بن چکا ھے بس اتنا بتا دینا چاہتا ھوں کہ یہ گھیراؤ اور جلاؤ کی تہذیب اور ترغیب ستر کی دہائی سے قبل ہی چلی آرھی ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! سنا تھا کہ عربی لوگ بدھو اور بیوقوف ھوتے ھیں مگر ان لوگوں میں نہ تو لسانیت، عصبیت اور مسلکیت میں منقسم ھیں اور تھے اسی سبب ان عربی اقوام میں اتحاد و اتفاق جاری رھا، اسی اتحاد و اتفاق کی بناء ان کے حکمرانوں نے اپنی اقوام کی زندگی کے تمام ضروریات کو مفت اور بآسانی انکی دہلیز پر پہنچانے میں قطعی کوتاہی نہیں برتی یہی وجہ ھے کہ چند سالوں میں ان عرب ممالک جو بیابان خشک سالی ریگستان علاقے ہوا کرتے تھے وہ اب دنیا کے بہترین جدید ترین شہر اور ممالک بن چکے ھیں۔ ان تمام عرب ممالک میں یکساں عمل یہ ھے کہ یہاں جھوٹ، دھوکہ، فریب، غلط بیانی، چوری، رہزنی، ملاوٹ اور سرکاری احکامات و قوانین کی خلاف ورزی پر فی الفور اس قدر سخت ترین سزائیں دیدی جاتی ھیں کہ جنکی خلاصی ممکن ہی نہیں کیونکہ قانون کے آگے نہ رشوت اہمیت رکھتی ھے نہ کسی قسم کا دباؤ عدالتوں کے فیصلے حتمی اور آخیر ھوتے ھیں جبکہ عدالتوں کا نظام شریعت محمدی یعنی اسلامی نظام کے تحت مکمل وارد ھیں۔ یاد رکھئے عرب ممالک میں جب بھی یہ نظام کمزور ھوا تو یہی ترقی یافتہ عرب ممالک تباہی کا شکار ھوجائیں گے۔ اب ذرا ھم اپنے ملک و قوم کی جانب دیکھتے ھیں تو دنیا بھر کی غلاظت اور انسانیت میں پیوستہ شیطانی و ابلیسی عوامل بھرپور انداز میں نظر آئیں گے یہی سبب ھے کہ آج ھم من حیث القوم انتہائی پستی، تنزلی، رسوائی اور ذلت کا شکار ھیں ھم پاکستانی ایک انسان نما بھیڑیئے جانور بن چکے ھیں جو اپنی ہوس کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی حد تک گر جاتے ھیں، اللہ تبارک تعالیٰ نے ہمیں ہر موسم، تقریباً ہر پھیل، تقریباً ہر میوہ جات اور بیش بہا نہری نظام، بلند ترین پہاڑ اور پہاڑیاں، آبی ذخائر جن میں بیشمار نہریں و دریا، ہحر ہند اور سمندر، وسیع ترین میدان اور پھیلے ہوئے ریگستان جیسی نعمتوں سے نوازا ھے یہی نہیں بلکہ قدرتی معدنیات کی ہزاروں اقسام عطا کیں ھیں لیکن افسوس ھم سب کے پاس بس ایمان اور دین محمدی ﷺ نہیں ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستانی قوم کی آج جن حالات نے کمر مکمل طور پر توڑ کر رکھ دی ھے وہ ھے توانائی کا شعبہ، یاد رکھئے کہ صرف یہی ایک ایسا شعبہ ھے جس نے بتیس سال میں پاکستان کو موت کے دھانے پر پہنچا دیا ھے۔ وہ ہے آئی پی پیز یعنی بجلی پیدا کرنے والے نوے پرائیویٹ ادارے۔ ان اداروں کے معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے میرے معزز قارئین یقیناً پہلے سے واقف ہونگے لیکن شائد یہ نہیں جانتے ہونگے کہ ان کے مالکان کون کون ہیں؟ تو آج میں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں انکی آنکھوں اور ذہنوں میں ڈلا پردہ اٹھادیتا ھوں جی جان لیجئے کہ اٹھائی فیصد شریف خاندان، سولہ فیصد ن لیگی رہنما، سولہ فیصد زرداری، آٹھ فیصد پیپلز پارٹی رہنما، دس فیصد اسٹبلشمنٹ، آٹھ فیصد چین کے سرمایہ کا، سات فیصد عرب کے سرمایہ کار قطری، سات فیصد پاکستانی سرمایہ دار، یعنی اٹھہتر فیصد صرف تین گروپس شریف خاندان، زرداری خاندان، اور اسٹبلشمنٹ کی ملکیت ہیں۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجئے یہی وہ نوے لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، اسٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، ایل پی جی اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔ یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا ایک سو پچیس فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئے ہیں لیکن دیتے صرف اڑتالیس فیصد ہیں لیکن قیمت ایک سو پچیس فیصدی کی وصول کرتے آرہے ہیں لہٰذا پچھلے پانچ سال میں چھ ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا دو ہزار نو سو ارب کا مقروض ہے، معزز قارئین ۔۔۔۔!! ریٹائرڈ جنرل ایوب، ریٹائرڈ جنرل یحیٰی، ریٹائرڈ جنرل ضیاءالحق، ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف، ریٹائرڈ جنرل اشفاق پرویز کیانی، ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف، ریٹائرڈ جنرل قمر جاوید باجوہ کی پالیسیاں اس قدر سودمند ثابت نہیں ھوئی کہ جن سے پاکستان ابدی سطح پر معاشی و اقتصادی طور پر مستحکم ھوا اور عوام کی زندگی میں خوشگوار بدلاؤ ہوسکا۔ اگر بات کی جائے حکمرانوں و سیاستدانوں کی تو ان میں ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب کے ادوار اور اسکے بعد پاکستان میں جاری جمہوریت اور جمہوری ٹھیکیداروں جن میں وقت کے بدلتے حزب جماعت و حزب اختلاف نے اپنی نااہلیوں، ناکامیوں بدکرداریوں بداخلاقیوں بدعنوانیوں لاقانونیت اور اقربہ پرویوں کو جس قدر پڑوان چڑھایا اور اپنے اعمال کے سبب ریاست پاکستان میں ایسا مافیائی سسٹم جاری کردیا کہ جس سے ملک و قوم کو مٹانے کیلئے کوئی اور ضرورت نہیں رہی۔ پاکستانی سیاسی و جغرافیائی اور مذہبی حالات نے روز بروز جلتی آگ میں ایندھن ہی ڈھالا، حیرت و تعجب کا امر یہ ھے کہ ان اشرفیاء، پارلیمنٹرین، ایلیٹ جماعت اور مخصوص طبقہ ہمیشہ سے فوائد حاصل کرتا رھا اور کرتا چلا آرھا ھے سنہ دو ہزار سے جب ابلاغ عامہ کو میڈیا انڈسٹری کا درجہ دیا اور آزاد مست ہاتھی کی طرح چھوڑ دیا تو اس میڈیا نے ہرے بھرے سرسبز باغات ملک کو مست ہاتھی کی طرح تباہ و برباد کردیا گویا یہ سب کے سب گروہ یا طبقہ صرف پانچ فیصد ھوگا جس نے پچانوے فیصد غریب، مسکین، کمزور عوام پر بوجھ در بوجھ لاد رکھا ھوا ھے اور دنیا کی بدترین تاریخ بھی اسی ملک میں رقم کی جاتی رہی ہیں یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہیگا جبتک ان کی باقیات کو زندہ رکھنے کیلئے یہی قوم انکے جھوٹے وعدوں اور عہد پر یقین کرتے رہیں گے اور عوام جبتک انکی باقیات کیلئے نعرے جلسہ جلوس نکالتے رھیں گے یہاں ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ان باقیات کے علاوہ برساتی نالوں کی پیدائش سیاسی و مذہبی جماعت بھی ان خبیثوں اور غلیظوں کے نقش قدم پر ھیں ھم بناء انقلاب ان قرضوں سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرسکتے یاد رکھئے جس طرح اسرائیل مظلوم فسلطینیوں پر ظلم کررھا ھے اور مظلوم فلسطینی ظالم کے آگے جھکے نہیں غیرت عزت اور ایمان کیساتھ جہاد جاری رکھے ھوئے ھیں اور انشاءاللہ اپنا حق لیکر ہی رہیں گے یہی عمل پاکستانی عوام کو فلسطینیوں کی طرح حقوق اور سچائی کی خاطر اپنے ہی دجالوں ظالموں کیخلاف جہاد فی سبیل اللہ اختیار کرنا ھوگا وگرنہ یونہی کوستے رہنا روتے رہنا اور خود پر خاک ملتے رہنا۔اس تمام کا ایک ہی حل ھے “خلافت پاکستان” یعنی مکمل اسلامی نظام اور شرعی کورٹ کا بااختیار مضبوط نظام۔۔۔۔!!

About ManiStonics

Human

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow