Latest Posts
رسول اللہ ﷺ کا فرمانمنیر احمد ولد سردار محمدملک بھر میں واٹس ایپ سروسز متاثر، صارفین پریشانجرمن سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، قونصل خانے پر حملے کی مذمتای پیپرزرسول اللہ ﷺ کا فرمانگارلک اور چیز بریڈانڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابی مہم سے پاکستان کا تذکرہ غائب کیوں ہوا؟صنم جاوید کیس میں اپیل سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کی وضاحتصبا فیصل اپنی بیٹی کے ہمراہ عُمرے پر روانہمخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواست تعطیلات کے بعد سننے کا فیصلہایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت سے ایک یا دو ہفتے دور ہے، امریکابنگلادیش میں احتجاجی طلبہ کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکمکراچی: ہوٹل کے ملازم پر ناشتے کے پیسے مانگنے پر مقدمہ درج کرنے والے پولیس اہلکار معطلنئے انتخابات کیلیے پی ٹی آئی پختونخوا اسمبلی کی تحلیل اور قومی نشستیں چھوڑنے پر تیار ہے، فضل الرحمانحکومت میں بیٹھے آئی پی پیز مالکان عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، حافظ نعیم الرحمٰنکراچی میں 6 سالہ بچی سے پڑوسی کی زیادتی، ملزم گرفتارکراچی ڈویژن میں دو لاکھ گھروں میں کھانا پکانے کیلئے لکڑی کا استعمال ہوتا ہے، ادارہ شماریاتوفاق نے بنوں واقعے کی تحقیقات کیلیے پختونخوا حکومت کے کمیشن کو مسترد کردیاپیام شوق و سلام عقیدت

عاصمہ جہانگیر کانفرنس ایک شرانگیز رخ

 تحریرطارق خان ترین 

ملک میں جاری سیاسی منافرت، قوم پرستانہ تعصب، شدت پسندی سے لیکر دہشتگردی تک، نفسیاتی یا پھر ادارک کی جنگ سے لیکر فرقہ پرستی، نسل پرستی یہ سب معاشرتی بیماریاں بن کر ہماری جڑوں میں سرائیت کرتی چلی جارہی ہے۔ جس سے ہمارے معاشرے، ہماری قوم اور ملک کو بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ مگر اسے روکنے کے لئے پاکستان کے سول محکمے ناکام ہوچکے ہے۔ ملک دشمن عناصر نے ملک کی آزادی سے لیکر بتدریج پہلے سول محکموں کو ان معاشرتی مسائل سے سے سامنا کروایا جس میں بڑی حد کامیاب ہوئے، جب آج کل براہراست ملک کے ریاستی اداروں کو نشانہ بناکر ملک کے خلاف گھناؤنی سازشیں گڑی جارہی ہے جو انتہائی طور پر نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ قابل گرفت عمل ہے۔ عاصمہ جہانگیر جب زندہ تھی تب بھی وہ اقوام متحدہ و دیگر بیرونی طاقتوں کے لئے سر تسلیم خم تھی مگر جب بات ریاست پاکستان کی آجاتی تو انہی بیرونی طاقتوں کے پروں کو استعمال کرتے ہوئے محترمہ پاکستان میں پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک سے متنفر کرنے کے لئے برسر پیکار رہتی۔ انکی تمام تر تقاریر سے اندزہ آپ بہت آسانی سے لگا سکتے ہے کہ کبھی انہوں ملکی اور عوامی مفاد پر بات تک نہیں کی، ملک کو انتشار سے بچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔  البتہ جتنا ہوسکتا تھا عاصمہ جہانگیر نے ملک اور ملکی باوقار اداروں پر عورت کارڈ کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ان پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی، مگر اللہ جسے چاہے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے ذلالت سے نوازتا ہے۔

About ManiStonics

Human

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow