الجزیرہ نیوز

ہر نظریہ ہر خبر الجزیرہ نیوز عوام سے ایوان تک آپکی ہر آواز کا ضامن الجزیرہ نیوز

Advertisement

سعودی عرب، ترکی، قطر اور اسرائیل کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ ملتوی کر دیا ہے۔

سعودی عرب، ترکی، قطر اور اسرائیل کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ ملتوی کر دیا ہے۔
امریکی ترجمان کے مطابق، آج ایران میں جن 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی، وہ روک دی گئی ہے، اس لیے فی الحال امریکہ جنگ کو ٹال رہا ہے؛ لیکن ہم حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے: “میں نے سینکڑوں جانوں کو بچایا ہے۔”

ادھر پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے دھمکی دی ہے کہ:
“پاسداران انقلاب، فوج کے کمانڈر، وزیر دفاع اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔ وہ مورچوں میں ہیں اور فائر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ انتظار کر رہے ہیں کہ اگر ایک بھی گولی چلائی گئی تو اس بار وہ نہایت سخت اور تباہ کن جواب دیں گے۔”
اس کے ساتھ انہوں نے عرب ممالک کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ:
“سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، ترکی اور عراق میں ایک بھی اڈہ محفوظ نہیں رہے گا۔”

پاسداران انقلاب کی اس دھمکی کے بعد شاید ترکی اور سعودی عرب اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور دوبارہ امریکہ کو جنگ سے باز رکھنے کی کوشش نہ کریں۔

امریکہ کو اس جنگ میں ان ممالک میں موجود اڈوں کو استعمال میں لانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
امریکہ تین طریقوں سے حملہ آور ہو سکتا ہے:
پہلا حملہ B-2 بمبار جہاز کے ذریعے ہو سکتا ہے، جو امریکہ میں موجود کسی ایئر بیس سے اڑ کر دوبارہ وہاں لینڈ کر سکتا ہے۔
دوسرا حملہ بین الاقوامی سمندری حدود میں اپنے بحری بیڑوں سے میزائل فائر کر کے کیا جا سکتا ہے،
اور انہی بیڑوں پر موجود اپنے لڑاکا جہازوں کو بھی بروئے کار لا سکتا ہے۔ اس لیے خلیجی ممالک میں امریکی بیسز اس وقت خالی ہیں اور بیڑے مختلف مقامات پر پوزیشن لے رہے ہیں۔

امریکہ پہلے مرحلے میں فضائی حملوں کے ذریعے پاسداران انقلاب اور ان کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا۔
خامنہ ای کو فی الحال نشانہ نہیں بنایا جائے گا، بلکہ کوشش ہوگی کہ وہ ملک سے بھاگ جائیں۔ اس سلسلے میں روس میں ان کے استقبال کے لیے انتظامات بھی مکمل ہو چکے ہیں۔
اسی لیے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت ملک سے لاکھوں ڈالرز اسمگل کر رہی ہے اور امریکہ ان رقوم کو “ٹریک” کر رہا ہے۔

خامنہ ای کے جانے کے بعد پاسداران انقلاب کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ موجودہ صدر یا کسی عبوری صدر کی قیادت میں ایران کی عام فوج کو مضبوط کر کے اسے پاسداران انقلاب کی جگہ سامنے لایا جائے گا۔

لہٰذا یہ حملہ ہر صورت ہو گا۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ التوا کے تین بنیادی مقاصد ہیں:

· مظاہرین کی پھانسیاں ملتوی کرا کے ایران کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو نجات دہندہ ثابت کرنا،
· عرب اتحادیوں کو ساتھ ملانا،
· اور امریکی افواج کو مطلوبہ پوزیشن سنبھالنے کے لیے درکار وقت حاصل کرنا۔

ایک امریکی عہدیدار کے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو کے مطابق، امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری کے طور پر بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کر رہا ہے۔ اگر صدر ٹرمپ نے اجازت دے دی تو اس کارروائی کی نوعیت انتہائی جارحانہ ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Whatsupp